Home Blog Page 2

Best 10 Reflections On Father Death Poetry In Urdu

0
Father Death Poetry in Urdu
Father Death Poetry in Urdu

Losing a father is one of the most painful experiences a person can face. A father is more than just a parent—he is a shelter, a silent supporter, and a lifelong guide. When he is no longer around, the heart feels empty, and words often fail. That’s why many turn to Father Death Poetry in Urdu—to express those silent tears, deep love, and the never-ending longing for their Abbu.

In today’s world, many people search online for Emotional Poetry for Father in Urdu, Urdu Shayari on Father Death, Poetry for Late Father in Urdu, or even Miss You Papa Poetry in Urdu—because poetry says what the heart cannot. These heartfelt words help express grief and love for a father who may be gone physically, but lives forever in our prayers and memories.

Whether you’re missing your father on his death anniversary, remembering his smile in silence, or just trying to put your feelings into words, this post brings you the most heart-touching Urdu poetry on father’s death—written from the soul, not copied from anywhere. Each verse reflects deep sorrow, pure love, and a connection that even death can’t break.ion, aiming to comfort those who are silently suffering and searching for poetry for late father in Urdu. May these heartfelt words help you find Father Death Poetry in Urdu peace, strength, and connection in the midst of your sorrow.

کفن میں لپٹے باپ کے چہرے کو آخری بار دیکھنے

کی اذیت، اُن کے بچوں سے زیادہ

کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

یاد آتا ہے مجھے وہ گزرا ہوا زمانہ وہ

میرے بابا جان کا شام کو گھر آنا

ایک بابا سے بچھڑنے کا غم ہے جو ہنسنے نہیں

دیتا اور ایک میں روؤں تو میری ماں

بھی رونے لگتی ہیں

حالات برے مگر رکھتا تھا نواب بنا کر ہم غریب

تھے یہ صرف میرا باپ جانتا تھا

یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ سنا ہے

باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چھتے

یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ سونا ہے

باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چوبتے

Father Death Poetry in Urdu

حوصلے ٹوٹیں اور لیٹنے کو باپ نہ ہو تم

اس دکھ کو نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔

مجھ سے مانگو مثال بادسوں کی میں نے

اپنے باپ کو جاتے دیکھا ہے

باپ مرجائیں تو جی سب لیتے ہیں لیکن

ایک خلش سی رہ جاتی ہے زندگی میں ۔

بہت تکلیف میں ہوں آج کل بابا آپکی

بہت یاد آرہی ہے

Best 10 Motivational Poetry In Urdu

0
Motivational Poetry In Urdu
Motivational Poetry In Urdu

In today’s fast-moving world, where people often lose hope amid failures and hardships, Motivational Poetry in Urdu stands as a powerful source of inspiration and emotional strength. Urdu — a language rich in feeling and rhythm — beautifully captures the emotions of determination, courage, and success through its poetic expressions. From the timeless verses of Allama Iqbal, who awakened the youth with his dream of self-belief and greatness, to modern-day poets who write about never giving up, Urdu motivational poetry continues to inspire millions across generations.

What makes Urdu poetry truly special is its unique ability to speak directly to the heart. Each verse, or “sher,” carries deep wisdom about life, patience, and inner strength. When life feels uncertain and dreams seem far away, these poetic words remind us that every difficulty brings new opportunities. Poetry like motivational quotes in urdu teaches us to rise beyond fear, build confidence, and trust our potential.

For students chasing success, dreamers fighting obstacles, and anyone struggling with self-doubt, motivational poetry in Urdu becomes a guiding light. It not only energizes the mind but also purifies the soul — encouraging us to believe that success is not a destination, but a continuous journey of effort, faith, and resilience. The beauty of Urdu lies in its ability to heal the heart and awaken the courage hidden within.

Whether you’re reading Urdu poetry about success, inspirational poetry in Urdu for students, or Allama Iqbal’s motivational verses, every line reminds us that we are stronger than our fears and capable of achieving greatness. Through hope-filled words and deep emotions, Urdu motivational poetry transforms pain into power and turns dreams into destiny.

اس شام کی حدت میرے دل سے نہیں

جاتی جس شام آپ کا سایہ میرے

سر سے اٹھا تھا

ہر شخص اپنی سنائی ہوئی

کہانی میں مخلص ہے۔

شخصیت دم دار ہو تو مخالف

بن ہی جاتے ہیں

Motivational Poetry In Urdu

ہم دنیا کو جتنا کم بتائیں گے ہماری

دنیا اتنی خوبصورت ہوگی

نا آسان ہے ، کھونا آسان ہے پانا مشکل

ہے سنبھال کر رکھنا !

انسان امیدوں سے بندھا ایک صدی

پر ندا ہے جو گھائل بھی اُمیدوں سے ہے

اور زندہ بھی امیدوں سے ہے

زندگی میں خود روشنیاں پیدا کرو یقین

جانو تمہارے علاوہ تمہارا کوئی

وفادار نہیں ہے۔

خدا کے ترازو کے پاس ” داڑھیوں، تسبیحوں، مصلحوں

، نمازوں، بر قعوں، کا ڈھیر ہو گا۔” پھر کیا ہی کمال

کا نظارہ ہو گا جب اللہ نیتیں تو لنے

کا حکم دے گا۔

جب ایک نماز ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار رہنے

لگے تو سمجھ لینا تم حاضر نہیں

ہوتے تمہیں بلایا جاتا ہے

لوگ کہتے ہیں پیسے رکھو برے وقت میں کام آئیں

گے میں کہتا ہوں اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھو

ان شاء الله برا وقت ہی نہیں آئے گا ۔

پانی پینے کی دعاؤں کی فضیلت

0
پانی پینے کی دعاؤں کی فضیلت
پانی پینے کی دعاؤں کی فضیلت

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ پانی پینے جیسے عام عمل کے لیے بھی اسلام نے آداب اور دعائیں سکھائی ہیں۔ یہ دعائیں نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ انسان کو شکرگزاری، پاکیزگی اور اعتدال کا درس بھی دیتی ہیں۔

پانی پینے سے پہلے کی دعا

پانی پینے سے پہلے “بِسْمِ اللّٰہِ” کہنا سنتِ رسول ﷺ ہے۔
اس مختصر مگر بابرکت کلمے کے ذریعے انسان اس نعمت کا اعتراف کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔
اللہ کے نام سے آغاز کرنے سے ہر عمل میں برکت اور حفاظت شامل ہو جاتی ہے۔

پانی پینے کے بعد کی دعا

پانی پینے کے بعد نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
“اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِہِ وَلَمْ یَجْعَلْہُ مِلْحًا اُجَاجًا بِذُنُوْبِنَا”
(ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی رحمت سے میٹھا پانی پلایا اور ہمارے گناہوں کے سبب کڑوا اور کھارا نہیں بنایا۔)

یہ دعا دراصل شکرگزاری اور عاجزی کا اظہار ہے۔ جب انسان ہر گھونٹ پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، تو اس کے دل میں نعمتوں کی قدر بڑھ جاتی ہے۔

پانی پینے کے آداب

اسلام نے پانی پینے کے چند خاص آداب سکھائے ہیں، جن پر عمل کرنا سنت اور برکت کا باعث ہے:

بیٹھ کر پانی پینا – نبی ﷺ نے بیٹھ کر پانی پینے کو پسند فرمایا۔

تین سانس میں پینا – ایک ہی گھونٹ میں پانی پینا مکروہ ہے۔ سنت یہ ہے کہ تین وقفوں میں پیا جائے۔

دائیں ہاتھ سے پینا – شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے، اس لیے مومن ہمیشہ دائیں ہاتھ کا استعمال کرتا ہے۔

پانی پینے کے بعد “الحمد للّٰہ” کہنا – اس سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

دوسروں کو پانی پلانا – نبی ﷺ نے فرمایا: “سب سے بہتر صدقہ پیاسے کو پانی پلانا ہے۔”

دعاؤں کی روحانی فضیلت

پانی پینے کی دعائیں صرف الفاظ نہیں بلکہ روح کی طہارت کا ذریعہ ہیں۔
جو شخص ہر بار پانی پیتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، وہ دراصل ہر نعمت میں ربّ کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔
یہی عادت انسان کے اندر تقدیر پر شکر، دل میں سکون اور اعمال میں برکت پیدا کرتی ہے۔

سائنسی نقطۂ نظر سے حکمت

جدید سائنس بھی تصدیق کرتی ہے کہ پانی پینے کے وقت ذہنی سکون، اعتدال اور مثبت سوچ جسم کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔
جب انسان “بسم اللہ” اور “الحمد للہ” کے ساتھ پانی پیتا ہے تو اس کا دل و دماغ پرسکون رہتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور اندرونی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

نتیجہ

پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اگر ہم اس نعمت کو پیتے وقت دعا پڑھیں، سنت کے مطابق عمل کریں، اور شکر ادا کریں تو یہ عمل عبادت بن جاتا ہے۔
یوں ایک عام سی چیز جیسے “پانی پینا” بھی ثواب، صحت اور روحانی قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

سونے کی دعا کی فضیلت

0
سونے کی دعا کی فضیلت
سونے کی دعا کی فضیلت

سونے کی دعا کیا ہے؟

سونے سے پہلے جو دعا نبی کریم ﷺ پڑھا کرتے تھے، وہ یہ ہے:

اللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ

ترجمہ: اے اللہ! تیرے ہی نام سے میں جیتا ہوں اور تیرے ہی نام سے مرتا ہوں۔

(بخاری شریف: حدیث نمبر 7393)

سونے کی دعا کی فضیلت

اللہ کی یاد کے ساتھ نیند

جو شخص سونے سے پہلے اللہ کا نام لیتا ہے، اس کا سونا بھی عبادت بن جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ ذکرِ الٰہی کرتے ہوئے سو جائے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر فرما دیتا ہے۔

امن و سکون کی نیند

آج کے دور میں انسان بے چینی، ڈپریشن اور فکر میں مبتلا ہے۔ لیکن جو مسلمان سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیتا ہے، وہ دل کے سکون کے ساتھ سوتا ہے۔ کیونکہ دلوں کا اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

مغفرت اور حفاظت کا ذریعہ

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص پاکیزگی کے ساتھ وضو کر کے بستر پر جاتا ہے اور سونے سے پہلے ذکرِ الٰہی کرتا ہے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔

اچانک موت کی صورت میں ایمان پر خاتمہ

اگر کوئی شخص سوتے ہوئے وفات پا جائے تو سونے سے پہلے کی دعا اس کے ایمان پر خاتمہ کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ وہ اللہ کی یاد میں سویا تھا۔

سونے سے پہلے کے مسنون آداب

وضو کر کے سونا۔

بستر کو جھاڑ لینا۔

دائیں کروٹ پر لیٹنا۔

سونے سے پہلے سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھنا۔

سونے کی دعا پڑھ کر آنکھیں بند کرنا۔

یہ تمام طریقے نبی کریم ﷺ کی سنت ہیں، جو برکت، حفاظت اور روحانی سکون کا سبب بنتے ہیں۔

سونے کی دعا کے روحانی فائدے

دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔

خوف، وسوسے اور ڈر سے نجات ملتی ہے۔

ساری رات اللہ کی حفاظت میں گزرتی ہے۔

صبح اٹھنے پر تازگی اور قوت محسوس ہوتی ہے۔

انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہوتا ہے۔

نتیجہ

“سونے کی دعا” ایک چھوٹی سی مگر بے حد بابرکت دعا ہے۔ اگر ہم روزانہ سونے سے پہلے یہ دعا پڑھنے کو اپنی عادت بنا لیں تو نہ صرف دنیاوی سکون حاصل ہوگا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی نصیب ہوگی۔
نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ مسلمان کا ہر عمل نیکی بن سکتا ہے — اگر وہ اللہ کی یاد کے ساتھ کیا جائے۔

آیت الکرسی کی فضیلت

0
آیت الکرسی کی فضیلت
آیت الکرسی کی فضیلت

آیت الکرسی قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیتوں میں سے ایک ہے۔ یہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 255 ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت، علم، اور سلطنت کا بیان ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ آیت اللہ تعالیٰ کی شانِ الوہیت اور اس کی حکمرانی کو واضح کرتی ہے۔

آیت الکرسی کی اہمیت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

“جس نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کے اور جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز باقی نہیں۔”
(سنن نسائی)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت الکرسی کی تلاوت ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور بندے کو جنت کے قریب کرتی ہے۔ یہ آیت نہ صرف عبادت کا حصہ ہے بلکہ ایک روحانی ڈھال بھی ہے۔

آیت الکرسی کے روحانی فوائد

شیطان سے حفاظت:
جو شخص صبح و شام آیت الکرسی پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔

گھر میں برکت:
جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جاتی ہے، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور برکت بڑھتی ہے۔

سفر میں امان:
سفر پر جانے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے والا اللہ کے حفظ و امان میں رہتا ہے۔

نیند کے وقت حفاظت:
حدیث کے مطابق جو شخص سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کی حفاظت کے لیے مقرر کر دیا جاتا ہے۔

آیت الکرسی میں پوشیدہ عقیدۂ توحید

آیت الکرسی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:

اللہ واحد ہے۔

وہ زندہ اور ہمیشہ قائم ہے۔

نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔

آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔

کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔

اس کا علم سب کچھ گھیرے ہوئے ہے۔

یہ تمام نکات ہمیں اللہ کی عظمت، قدرت، اور علم کی لا محدود وسعت کا احساس دلاتے ہیں۔

آیت الکرسی کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنا

آیت الکرسی کو روزمرہ معمولات میں شامل کرنا ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔
کوشش کریں کہ:

ہر نماز کے بعد اسے پڑھیں۔

گھر سے نکلتے وقت تلاوت کریں۔

بچوں کو سونے سے پہلے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔

مصیبت یا خوف کی حالت میں اسے پڑھ کر دل کو اطمینان دیں۔

آیت الکرسی: ایمان اور سکون کا خزانہ

آیت الکرسی صرف ایک آیت نہیں بلکہ ایمان، تحفظ اور روحانی سکون کا خزانہ ہے۔ جو شخص اسے یقینِ کامل کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ اللہ کی امان میں آ جاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا رب سب کچھ جانتا ہے، سب پر قادر ہے، اور ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔

اختتامی کلمات

آیت الکرسی کی فضیلت اتنی عظیم ہے کہ اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا مومن کی کامیابی کی علامت ہے۔ یہ آیت نہ صرف دنیاوی خوف سے نجات دیتی ہے بلکہ آخرت میں جنت کے دروازے کھولنے والی چابی بھی ہے۔

نمرود اور حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ

0
نمرود اور حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ
نمرود اور حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ

زمانۂ قدیم میں ایک بڑا بادشاہ تھا جس کا نام نمرود تھا۔ وہ نہایت مغرور، ظالم اور خدا کے مقابلے میں اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والا شخص تھا۔ اس نے اپنے ملک میں یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ کوئی شخص اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے، لیکن دلوں میں ایک سوال چھپا تھا — کیا واقعی نمرود ہی ربّ العالمین ہے؟

اسی زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ظہور ہوا۔ آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے عقل، دانائی اور سچائی عطا فرمائی تھی۔ آپؑ نے بچپن ہی سے دیکھا کہ لوگ پتھروں کے بتوں کو سجدہ کرتے ہیں، ان سے دعائیں مانگتے ہیں، اور ان کے سامنے نذرانے رکھتے ہیں۔ لیکن ابراہیمؑ کا دل گواہی دیتا تھا کہ یہ پتھر کچھ نہیں کر سکتے۔

توحید کی آواز

ایک دن حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ آزر سے فرمایا:

“اے ابّا جان! آپ ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ ہی آپ کے لیے کسی نقصان یا فائدے کی طاقت رکھتی ہیں؟”

آزر سخت ناراض ہوا اور بولا:

“اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے منہ موڑ رہا ہے؟ اگر باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر دوں گا!”

لیکن ابراہیمؑ نے نہ غصہ کیا نہ بددعا دی، بلکہ نرمی سے فرمایا:

“میں اپنے رب سے آپ کے لیے ہدایت کی دعا کروں گا، کیونکہ وہ بڑا مہربان ہے۔”

بتوں کا توڑنا

جب شہر کے لوگ ایک بڑی تقریب کے لیے باہر گئے، تو ابراہیمؑ بت خانہ میں داخل ہوئے۔ وہاں درجنوں بت کھڑے تھے۔ آپؑ نے فرمایا:

“کیا تم کھاتے ہو؟ کیا تم بولتے ہو؟”

جب کوئی جواب نہ آیا، تو آپؑ نے سب بت توڑ ڈالے، سوائے ایک بڑے بت کے۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا لٹکا دیا۔

جب لوگ واپس آئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے شور مچایا:

“ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟”

کسی نے کہا:

“یہ کام ابراہیم نے کیا ہے، وہ ہمیشہ ہمارے معبودوں کے خلاف بات کرتا ہے۔”

نمرود کے دربار میں ابراہیمؑ کو حاضر کیا گیا۔ نمرود نے پوچھا:

“اے ابراہیم! کیا تو نے ہمارے معبودوں کو توڑا ہے؟”

آپؑ نے بڑے اطمینان سے فرمایا:

“بلکہ یہ بڑے والے نے کیا ہے، ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں!”

یہ سن کر نمرود اور اس کے درباری لاجواب ہو گئے۔ مگر ان کے غرور نے سچائی قبول نہ کی۔

آگ کا الاؤ

نمرود نے حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو آگ میں پھینک دیا جائے۔ اس نے ایک بہت بڑا الاؤ جلانے کا حکم دیا، اتنا بڑا کہ اس کی لپٹیں آسمان کو چھونے لگیں۔ لوگوں نے منجنیق سے حضرت ابراہیمؑ کو اس میں پھینک دیا۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے فوراً حکم دیا:

“اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا!”
(سورۃ الانبیاء، آیت 69)

سب حیران رہ گئے — آگ ٹھنڈی ہوگئی، اور ابراہیمؑ سلامت کھڑے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ جنہیں وہ جلا دینا چاہتے تھے، وہ آگ میں بھی محفوظ ہیں۔

ایمان کی جیت

نمرود اپنی شکست پر جل اٹھا۔ اس نے بحث کرنے کی کوشش کی کہ وہ بھی زندگی اور موت دے سکتا ہے۔ اس پر ابراہیمؑ نے فرمایا:

“اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تُو سچا ہے تو اسے مغرب سے نکال دکھا!”

نمرود خاموش ہوگیا۔ وہ دل سے جان چکا تھا کہ ابراہیمؑ کا رب ہی سچا رب ہے، مگر اس کا تکبر اسے ایمان لانے سے روک رہا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے غرور کا انجام ایسا کیا کہ نمرود ایک معمولی مچھر کے ذریعے ہلاک ہوا — وہی مچھر اس کی ناک میں گھس گیا اور اسے تڑپا تڑپا کر مار گیا۔

سبق اور پیغام

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
حضرت ابراہیمؑ نے ثابت کیا کہ ایمان، صبر اور توکل سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔
دنیا کے نمرود ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں، مگر اللہ کے بندے ہمیشہ سرخرو رہتے ہیں۔

آدم اور ابلیس کا واقعہ

0
Hazrat Adam or Aur Iblees islamic waqiat
Hazrat Adam or Aur Iblees islamic waqiat

اسلامی تاریخ میں حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ وہ پہلا لمحہ ہے جب زمین پر انسان کی آزمائش کا آغاز ہوا۔ یہ واقعہ قرآنِ مجید میں بارہا ذکر کیا گیا ہے، تاکہ انسان سمجھ سکے کہ غرور، حسد اور تکبر کس طرح ایک مخلوق کو ہمیشہ کے لیے محروم کر دیتا ہے۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے جب زمین سے مٹی لی اور اس سے ایک حسین و جمیل پیکر بنایا، تو فرمایا:

“میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں” (سورہ بقرہ: 30)

فرشتے حیران تھے کہ یہ کیسی مخلوق ہوگی جو زمین پر رہے گی، کھائے گی، پیے گی، اور اپنی نسل کو بڑھائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح پھونکی، اور یوں وہ ایک زندہ، باشعور مخلوق بن گئے، جنہیں علم دیا گیا — تمام چیزوں کے ناموں کا علم۔

ابلیس کا تکبر

جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام فرشتے آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں، تو سب نے فوراً سجدہ کیا، مگر ایک مخلوق نے انکار کیا — وہ تھا ابلیس۔

ابلیس جنات میں سے تھا، اور اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا:

“میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں، اور آدم مٹی سے۔ میں اس سے بہتر ہوں، تو میں اسے سجدہ کیوں کروں؟”

یہی جملہ ابلیس کی تباہی کا آغاز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“نکل جا! تُو مردود ہے، اور قیامت تک تجھ پر لعنت رہے گی۔”

شیطان کا وعدہ

ابلیس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ اسے قیامت تک زندہ رکھا جائے، تاکہ وہ آدم اور ان کی اولاد کو گمراہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“جا، تجھے مہلت دی گئی۔ مگر میرے نیک بندے تیرے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔”

یہی وہ لمحہ تھا جب انسان اور شیطان کے درمیان دشمنی کا آغاز ہوا۔

جنت کی آزمائش

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا کو جنت میں رہنے دیا، مگر ایک درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔
ابلیس، جو دل میں حسد پال چکا تھا، ان کے پاس آیا اور فریب دیا:

“اگر تم یہ پھل کھاؤ گے تو ہمیشہ زندہ رہو گے۔”

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا اس وسوسے میں آگئے اور درخت کا پھل کھا لیا۔ نتیجے میں جنت کی نعمتیں چھن گئیں، اور انہیں زمین پر بھیج دیا گیا۔

توبہ اور مغفرت

مگر انسان اور شیطان میں ایک فرق یہ ہے کہ انسان خطا کرتا ہے مگر توبہ کرتا ہے، جبکہ شیطان تکبر کرتا ہے اور انکار کرتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام نے سچے دل سے دعا کی:

“اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تُو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”
(سورہ اعراف: 23)

اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اور وعدہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں گے، وہ جنت کے وارث بنیں گے۔

سبق

اس واقعے سے ہمیں یہ سکھنے کو ملتا ہے کہ

قرآنِ خفیہ میں قصۂ یاجوج ماجوج ایک پراسرار حقیقت

0
Islami Waqiat for Yajooj Majooj
Islami Waqiat for Yajooj Majooj

دنیا کی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہیں جن کا ذکر نہ صرف مذاہب میں بلکہ مختلف تہذیبوں کی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ انہی پراسرار قصوں میں سے ایک ہے یاجوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا واقعہ، جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی ایک نہایت گہرے اور عجیب انداز میں آیا ہے۔
یہ قصہ انسانیت کے انجام، قیامت کی نشانیوں اور اللہ کی قدرت کے رازوں سے بھرا ہوا ہے۔ آئیے، قرآن و تفسیر کی روشنی میں اس خفیہ اور پر اسرار واقعے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یاجوج ماجوج کون ہیں؟

قرآن میں سورہ الکہف کی آیات 92 تا 98 میں ذوالقرنین کے سفر کا تذکرہ ملتا ہے۔ وہاں ایک قوم نے ان سے فریاد کی کہ:

“اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں، تو کیا ہم تمہیں کچھ معاوضہ دیں کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دو؟”

یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج ایک طاقتور، جنگجو اور ظالم قوم تھی، جو زمین پر تباہی مچاتی تھی۔ ذوالقرنین نے ان کے خلاف ایک عظیم لوہے اور پگھلے تانبے کی دیوار تعمیر کی، تاکہ وہ باقی انسانوں تک نہ پہنچ سکیں۔

قرآنِ خفیہ کا پیغام

اگر ہم غور کریں تو یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک روحانی علامت بھی ہے۔
قرآن نے یاجوج ماجوج کو فساد، طاقت کے غلط استعمال اور انسان کے لالچ کی علامت کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔

قرآنِ خفیہ (یعنی قرآن کا باطنی مفہوم) یہ بتاتا ہے کہ جب انسان اپنی حدیں توڑ کر ظلم، فتنہ اور فساد میں ڈوب جاتا ہے تو وہ خود ایک طرح کا “یاجوج ماجوج” بن جاتا ہے۔

یاجوج ماجوج اور قیامت کی نشانیاں

احادیث میں آتا ہے کہ قیامت سے پہلے یاجوج ماجوج دوبارہ ظاہر ہوں گے اور دنیا میں تباہی مچائیں گے۔
یہ وہ وقت ہوگا جب زمین پر ظلم، گناہ اور فتنہ عام ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے۔”
(سورۃ الانبیاء: 96)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ دیوار ٹوٹ جائے گی، اور یہ قوم دنیا بھر میں پھیل جائے گی۔
کچھ علما کے نزدیک یہ سائنسی طاقتوں، ایٹمی ہتھیاروں یا جدید قوموں کی علامت بھی ہو سکتی ہے جو زمین پر ظلم اور تباہی پھیلا رہی ہیں۔

ذوالقرنین اور دیوار کی حقیقت

قرآن نے ذوالقرنین کو اللہ کا نیک اور بااختیار بندہ قرار دیا۔
انہوں نے عدل، عقل اور علم کی بنیاد پر یاجوج ماجوج کے فتنے کو روکا۔
آج کی دنیا میں اگر ہم غور کریں تو “دیوار” صرف لوہے کی نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، علم اور عدل کی دیوار ہے۔

یہ پیغام ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی روحانی دیوار مضبوط کرنی چاہیے تاکہ شیطان، لالچ اور گناہ کے یاجوج ماجوج اس کے دل میں داخل نہ ہو سکیں۔

یاجوج ماجوج کے جدید نشانات

ٹیکنالوجی اور طاقت کا غلط استعمال
انسان نے ترقی تو کی، مگر اخلاقی طور پر پستی میں جا رہا ہے۔ یہ جدید “یاجوج ماجوج” کا دور ہے۔

دنیاوی لالچ اور خود غرضی
ہر شخص مال، شہرت اور طاقت کے پیچھے بھاگ رہا ہے — یہی وہ فساد ہے جس کی قرآن نے نشاندہی کی۔

عالمی جنگوں اور تباہ کن ہتھیاروں کا فتنہ
ایٹمی طاقتیں آج اسی “پراسرار قوم” کا روپ لگتی ہیں جو زمین کو اجاڑنے پر تُلی ہوئی ہیں۔

قرآنی پیغام: خودی کی دیوار مضبوط کرو

قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ یاجوج ماجوج سے بچاؤ صرف ایمان، علم اور عمل سے ممکن ہے۔
اگر انسان اپنے اندر کی دیواریں — صبر، تقویٰ، علم، اور عدل — قائم رکھے تو کوئی یاجوج ماجوج اس پر غالب نہیں آ سکتا۔

اختتامی پیغام

یاجوج اور ماجوج کا قصہ صرف ماضی کا واقعہ نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا آئینہ ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسان فتنہ، ظلم اور غرور میں ڈوب جاتا ہے تو وہ خود تباہی کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کی مثال دے کر بتایا کہ عدل، ایمان اور حکمت سے ہر فتنہ روکا جا سکتا ہے۔

لہٰذا، اگر ہم اپنے دلوں میں قرآن کا نور پیدا کریں تو دنیا کے ہر یاجوج و ماجوج پر غالب آ سکتے ہیں۔

ایک بندر بادشاہ اور بھوت کی کہانی

0
ek-bandar-badshah-aur-bhoot-ki-kahani
ek-bandar-badshah-aur-bhoot-ki-kahani

ایک زمانے کی بات ہے، ایک گھنے جنگل میں ایک چالاک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہوشیار مگر تھوڑا شرارتی بھی تھا۔ جنگل کے تمام جانور اُس سے ڈرتے بھی تھے اور اُس کی عقل کی تعریف بھی کرتے تھے۔

اسی جنگل کے قریب ایک پرانا محل تھا جس میں ایک بہادر بادشاہ کبھی رہا کرتا تھا۔ مگر اب وہ محل ویران ہو چکا تھا، کیونکہ مشہور تھا کہ وہاں ایک بھوت رہتا ہے۔ ہر رات عجیب آوازیں آتی تھیں، دروازے خود کھلتے اور بند ہوتے تھے۔

ایک دن بندر نے سوچا،
“اگر واقعی محل میں بھوت ہے، تو کیوں نہ جا کر دیکھا جائے۔ شاید وہاں خزانہ بھی ہو!”

بندر کی مہم شروع ہوئی

رات کا وقت تھا۔ چاند کی ہلکی روشنی جنگل پر پھیلی ہوئی تھی۔ بندر آہستہ آہستہ محل کے اندر داخل ہوا۔ جیسے ہی وہ اندر گیا، ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔

بندر ڈر گیا مگر بولا،
“میں بندر ہوں، مجھے کوئی نہیں ڈرا سکتا!”

اسی لمحے ایک خوفناک آواز گونجی،
“کون ہے جو میرے محل میں آیا؟”

بندر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے سامنے ایک سفید دھوئیں جیسا وجود نمودار ہوا — وہ بھوت تھا۔

بھوت کا چیلنج

بھوت نے کہا


“اگر تم نے یہاں سے نکلنا ہے تو میرا ایک سوال حل کرو، ورنہ ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ رہو گے!”

بندر نے ہمت دکھاتے ہوئے کہا،
“پوچھو، کیا سوال ہے؟”

بھوت بولا،
“دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟”

بندر نے ذرا سوچا، پھر مسکرا کر جواب دیا،
“طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو ڈراتا ہے، بلکہ وہ ہے جو اپنے ڈر پر قابو پاتا ہے۔”

بھوت حیران رہ گیا۔ اس کے چہرے پر نرمی آئی۔ اس نے کہا،
“تم نے سچ کہا بندر! میں خود اپنے ڈر کا قیدی ہوں۔ تم نے مجھے آزاد کر دیا۔ اب تم جا سکتے ہو۔”

بادشاہ کا خواب

اگلے دن جنگل کے جانوروں نے دیکھا کہ بندر کے ہاتھ میں ایک سنہری تاج ہے۔ بندر نے بتایا کہ بھوت دراصل اس محل کا بادشاہ تھا جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ اُس کی روح سکون چاہتی تھی، اور بندر کے جواب نے اُسے آزادی دے دی۔

جنگل کے تمام جانوروں نے بندر کو “جنگل کا بادشاہ” بنا دیا۔
بندر نے کہا،
“طاقت جسم میں نہیں، نیت میں ہوتی ہے۔ جو دل سے نیک ہو، وہی اصل بادشاہ ہے۔”

کہانی کا سبق

حوصلہ سب سے بڑی طاقت ہے۔

ایک پیاسا کوا کی کہانی

0
piasa kawa kahani
piasa kawa kahani

گرمیوں کا موسم تھا۔ سورج آسمان پر آگ برسا رہا تھا۔ ایک پیاسا کوا کی کہانی ہر طرف دھوپ ہی دھوپ تھی۔ پرندے بھی اُڑتے اُڑتے تھک گئے تھے۔ ایسے میں ایک پیاسا کوّا بہت دیر سے پانی کی تلاش میں اُڑ رہا تھا۔ اس کی چونچ خشک ہو چکی تھی اور وہ تھکن سے نڈھال ہو گیا تھا۔

کافی دیر تک اُڑنے کے بعد اچانک اُس کی نظر ایک مٹی کے گھڑے پر پڑی۔ وہ خوشی سے چہک اُٹھا۔ “آخرکار مجھے پانی مل گیا!” اُس نے دل ہی دل میں کہا اور فوراً گھڑے کے پاس اُترا۔

مگر جب اُس نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ گھڑے میں پانی تو ہے، مگر بہت نیچے۔ اُس کی چونچ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ کوّا پریشان ہو گیا، لیکن ہار نہیں مانی۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا کروں؟ پھر اچانک اُس کے ذہن میں ایک چالاک خیال آیا۔

کوّے نے اردگرد دیکھا۔ قریب ہی کچھ کنکر پڑے ہوئے تھے۔ اُس نے ایک ایک کرکے کنکر چونچ سے اُٹھائے اور گھڑے میں ڈالنے لگا۔ ہر کنکر کے ساتھ پانی اوپر آتا گیا۔ کوّا محنت کرتا رہا، آخرکار پانی گھڑے کے منہ تک پہنچ گیا۔

اب کوّے نے مزے سے پانی پیا، اپنی پیاس بجھائی، اور خوشی خوشی اُڑ گیا۔ جاتے جاتے اُس نے سوچا


“محنت اور عقل سے کوئی کام مشکل نہیں

کہانی کا سبق

عقل اور محنت سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔